(۹۷۷۴)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی (إِنَّمَا النَّسِیئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ) قَالَ النَّسِیئُ أَنَّ جُنَادَۃَ بْنَ عَوْفِ بْنِ أُمَیَّۃَ الْکِنَانِیَّ کَانَ یُوَافِی الْمَوْسِمَ کُلَّ عَامٍ وَکَانَ یُکْنَی أَبَا ثُمَامَۃَ فَیُنَادِی أَلاَ إِنَّ أَبَا ثُمَامَۃَ لاَ یُحَابُ وَلاَ یُعَابُ أَلاَ وَإِنَّ عَامَ صَفَرَ الأَوَّلَ الْعَامَ حَلاَلٌ فَیُحِلُّہُ لِلنَّاسِ فَیُحَرِّمُ صَفَرًا عَامًا وَیُحَرِّمُ الْمُحَرَّمُ عَامًا فَذَلِکَ قَوْلِہِ تَعَالَی (إِنَّمَا النَّسِیئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِین کَفَرُوا یُحِلُّونَہُ عَامًا وَیُحَرِّمُونَہُ عَامًا) إِلَی قَوْلِہِ ( لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ)
[ضعیف۔ الطبری فی تفسیرہ ۶/ ۳۶۸]
(٩٧٧٤) ابن عباس (رض) اللہ کے ارشاد { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ } (التوبۃ : ٣٧) ” مہینہ کا سر کا دینا اور زیادہ کفر ہے “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جنادہ بن عوف بن امیہ کنانی ہر سال حج کے زمانہ میں آتے، ان کی کنیت ابوثمامہ تھی وہ اعلان کرتے کہ ابو ثمامہ سے نہ تو محبت کی جاتی ہے اور نہ ہی عیب لگایا جاتا ہے۔ خبردار ! وہ صفر کے مہینہ کو لوگوں کے لیے ایک سال حلال قرار دیتے اور ایک سال حرمت والا گردانتے اور ماہ محرم کو ایک سال حرمت والا شمار کرتے تھے۔ اللہ کا فرمان ہے : { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا۔۔۔ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ } (التوبۃ) ” مہینہ کا سرکا دینا اور زیادہ کفر ہے وہ لوگ گمراہ ہوئے جنہوں نے کفر کیا ، وہ ایک سال اس کو حلال خیال کرتے تھے اور اللہ کافر کو ہدایت نہیں دیتے۔ “