(۹۷۸۱)وَفِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ الْفَقِیہِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ہُوَ ابْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ : سَأَلْتُ مُجَاہِدًا عَنِ الْمُحْرِمِ یُوَاقِعُ امْرَأَتَہُ فَقَالَ : کَانَ ذَلِکَ عَلَی عَہْدِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : یَقْضِیَانِ حَجَّہُمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ بِحَجِّہِمَا ثُمَّ یَرْجِعَانِ حَلاَلاً کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا لِصَاحِبِہِ فَإِذَا کَانَا مِنْ قَابِلٍ حَجَّا وَأَہْدَی وَتَفَرَّقَا فِی الْمَکَانَ الَّذِی أَصَابَہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۱۳۰۸۱]
(٩٧٨١) یزید بن یزید بن جابر فرماتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے محرم کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھتا ہے تو فرمایا : حضرت عمر (رض) کے دور میں ہوا، ، فرماتے ہیں : یہ دونوں (میاں بیوی) اپنے حج کو پورا کریں گے۔ (واللہ اعلم) اللہ ان کے حج کے بارے میں خوب جانتا ہے، پھر جب وہ واپس آئیں گے تو دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہیں، لیکن جب آئندہ سال ہوگا تو دونوں (میاں، بیوی) دوبارہ حج کریں گے اور قربانی کریں گے اور اسی جگہ سے جدا ہوں گے جس جگہ ان سے گناہ سر زد ہوا تھا۔