hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 9788

.

سنن البيهقي

9788
Sunan Al Bayhaqi
(۹۷۸۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ الأَصْبَہَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی وَقَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْفَقِیہُ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَلِیُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو یَسْأَلُہُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَۃٍ فَأَشَارَ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ : اذْہَبْ إِلَی ذَلِکَ فَسَلْہُ قَالَ شُعَیْبٌ : فَلَمْ یَعْرِفْہُ الرَّجُلُ فَذَہَبْتُ مَعَہُ فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : بَطَلَ حَجُّکَ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : فَمَا أَصْنَعُ قَالَ : اخْرُجْ مَعَ النَّاسِ وَاصْنَعْ مَا یَصْنَعُونَ فَإِذَا أَدْرَکْتَ قَابِلاً فَحُجَّ وَأَہْدِ۔ فَرَجَعَ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَہُ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ : اذْہَبْ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَلْہُ قَالَ شُعَیْبٌ : فَذَہَبْتُ مَعَہُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَہُ فَقَالَ لَہُ کَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَرَجَعَ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَہُ فَأَخْبَرَہُ بِمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ قَالَ : مَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ : قَوْلِی مِثْلَ مَا قَالاَ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ وَفِیہِ دَلِیلٌ عَلَی صِحَّۃِ سَمَاعِ شُعَیْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ مِنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو۔ [حسن۔ اخرجہ ابن شیبہ ۱۰۸۵]
(٩٧٨٣) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن عمرو (رض) سے محرم کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی سے جماع کرلیتا ہے تو انھوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کی طرف اشارہ کردیا کہ ان سے پوچھو ! شعیب کہتے ہیں کہ وہ ان کو جانتا نہ تھا، میں اس کے ساتھ گیا تو اس نے ابن عمر (رض) سے پوچھا تو فرمانے لگے : تیرا حج باطل ہے، تو آدمی کہنے لگا : پھر میں کیا کروں ؟ فرمانے لگے : لوگوں کے ساتھ نکل کر ویسا ہی کرو جیسا لوگ کر رہے ہیں۔ جب آئندہ سال ہو تو حج اور قربانی کرنا۔ وہ عبداللہ بن عمرو کی طرف واپس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے ان کو بتایا۔ پھر عبداللہ بن عمرو (رض) نے اس کو ابن عباس کی طرف روانہ کیا کہ ان سے سوال کرو تو شعیب فرماتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ ابن عباس (رض) کے پاس گیا۔ اس نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے بھی ابن عمر (رض) کی طرح جواب دیا، پھر وہ دوبارہ عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس آئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا تو جو ابن عباس (رض) نے جواب دیا تھا مکمل بتادیا۔ پھر اس نے کہا : آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو عبداللہ بن عمرو (رض) فرمانے لگے : جو ان دو (یعنی ابن عمر، ابن عباس (رض) ) نے کہا ، وہی میں کہتا ہوں۔