(۹۷۸۵)وَأَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَنَّ أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ زِیَادٍ أَخْبَرَہُمْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَیْسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَجُلاً وَامْرَأَتَہُ مِنْ قُرَیْشٍ لَقِیَا ابْنَ عَبَّاسٍ بِطَرِیقِ الْمَدِینَۃِ فَقَالَ : أَصَبْتُ أَہْلِی فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا حَجُّکُمَا ہَذَا فَقَدْ بَطَلَ فَحُجَّا عَامًا قَابِلاً ثُمَّ أَہِلاَّ مِنْ حَیْثُ أَہْلَلْتُمَا حَتَّی إِذَا بَلَغْتُمَا حَیْثُ وَقَعْتَ عَلَیْہَا فَفَارِقْہَا فَلاَ تَرَاکَ وَلاَ تَرَاہَا حَتَّی تَرْمِیَا الْجَمْرَۃَ وَأَہْدِ نَاقَۃً وَلْتُہْدِ نَاقَۃً۔ [حسن]
(٩٧٨٥) ابوزبیر فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام نے ان کو خبر دی کہ قریش کا ایک مرد اور عورت مدینہ کے راستہ میں ابن عباس (رض) سے ملے۔ اس شخص نے کہا : میں اپنی بیوی سے مجامعت کرچکا ہوں تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : تمہارا یہ حج باطل ہے اور آئندہ سال حج کرنا، پھر وہیں سے تلبیہ کہنا جہاں سے تم نے شروع کیا تھا ، جب تم اس جگہ پہنچ جاؤ جہاں پر تم سے گناہ سر زد ہوا تھا تو پھر اپنی بیوی سے جدا ہوجانا۔ تو اس کو (بیوی) نہ دیکھے اور تیری بیوی تجھے نہ دیکھ سکے۔ جب تک تم رمی نہ کرلو، پھر ایک قربانی پیش کرنا اور تمہاری بیوی بھی۔