(۹۸۰۳)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ وَقَعَ عَلَی أَہْلِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ وَہُوَ بِمِنًی قَبْلَ أَنْ یُفِیضَ فَأَمَرَہُ أَنْ یَنْحَرَ بَدَنَۃً قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبِہَذَا نَأْخُذُ قَالَ مَالِکٌ : عَلَیْہِ عُمْرَۃٌ وَبَدَنَۃٌ وَحَجُّہُ تَامٌّ۔ وَرَوَاہُ عَنْ رَبِیعَۃَ فَتَرَکَ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ لِرَأْیِ رَبِیعَۃَ وَرَوَاہُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ یَظُنُّہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ سَیِّئُ الْقَوْلِ فِی عِکْرِمَۃَ لاَ یَرَی لأَحَدٍ أَنْ یَقْبَلَ حَدِیثَہُ وَہُوَ یَرْوِی بِیَقِینٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ خِلاَفَہُ ، وَعَطَائٌ الثِّقَۃُ عِنْدَہُ وَعِنْدَ النَّاسِ قَالَ الشَّیْخُ وَرُوِّینَاہُ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ۔ [صحیح۔ لغیرہ: ۸۵۸]
(٩٨٠٣) عطاء بن ابی رباح حضرت ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے سوال ہوا کہ محرم آدمی جو منیٰ میں ہے طواف افاضہ سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرلیتا ہے انھوں نے حکم دیا کہ وہ ایک اونٹ قربان کرے۔
امام شافعی اسی چیز کو ہم اختیار کریں گے، امام مالک فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ عمرہ، اونٹ کی قربانی اور مکمل حج ہے۔
(ب) ربیعہ سے منقول ہے اور انھوں نے ربیعہ کی رائے کی وجہ سے ابن عباس کے قول کو چھوڑ دیا ہے۔
ثور بن یزید جو عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں : ان کا قول کوئی بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔