3043 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجَهْمِ الْكَاتِبُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَاضَرَةِ وَالْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ وَالْمُزَابَنَةِ. قَالَ عُمَرُ فَسَّرَهُ أَبِى الْمُخَاضَرَةُ لاَ يَشْتَرِى شَيْئًا مِنَ الْحَرْثِ وَالنَّخْلِ حَتَّى يُونِعَ يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ وَأَمَّا الْمُنَابَذَةُ فَيَرْمِى بِالثَّوْبِ وَيُرْمَى إِلَيْهِ بِمِثْلِهِ فَيَقُولُ هَذَا لَكَ بِهَذَا وَالْمُلاَمَسَةُ يَشْتَرِى الْبَيْعَ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَالْمُحَاقَلَةُ كِرَاءُ الأَرْضِ.
3043 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ منع کیا ہے ۔
عمر (بن یونس) نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میرے والد نے اس کی وضاحت یوں کی ہے مخاضرہ سے مراد یہ ہے خریدار کسی کھیت یاکھجوروں کے باغ کو اسوقت تک نہیں خریدے گا جب تک وہ سرخ یازرد نہیں ہوجاتے (یعنی پیداوار پک نہیں جاتی) ۔
منابذہ سے مراد یہ ہے خریدار فروخت کرنے والے کی طرف اور فروخت کرنے والاخریدنے والے کی طرف کپڑا پھینکے گا اور کہے گا یہ اس کے عوض میں تمہارا ہوا۔
ملامسہ یہ ہے خریدنے والا سامان خریدے گا حالانکہ اس نے سامان کو دیکھا بھی نہیں ہوگا۔
محاقلہ سے مراد زمین کرائے پر دینا ہے۔