3044 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ أَبُو بَكْرٍ وَرَّاقُ الْحُمَيْدِىِّ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَمِّى ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ عَنْ جَدِّهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الَّذِى يُقَالُ لَهُ مِلْحُ شَذَا بِمَأْرِبَ فَقَطَعَهُ لَهُ ثُمَّ إِنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِىَّ قَالَ يَا نَبِىَّ اللَّهِ إِنِّى قَدْ وَرَدْتُ عَلَى الْمِلْحِ فِى الْجَاهِلِيَّةِ وَهِىَ بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا مِلْحٌ وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعَدِّ. فَاسْتَقَالَ أَبْيَضَ فِى قَطِيعَةِ الْمِلْحِ فَقَالَ أَبْيَضُ قَدْ أَقَلْتُكَ فِيهِ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّى صَدَقَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعَدِّ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ » قَالَ فَقَطَعَ لَهُ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَرْضًا وَنَخِيلاً بِالْجُرْفِ - جُرْفِ مُرَادٍ - مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ فِيهِ قَالَ فَرَجٌ فَهُوَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ.
3044 ۔ ثابت بن سعید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا حضرت ابیض بن حمال کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ قطعہ اراضی مانگا جسے ، ملح شذا، کہا جاتا تھا اور یہ ، مارب، میں تھا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ قطعہ اراضی انھیں عطاء کردیا۔ پھر اقرع بن حابس تمیمی نے عرض کی اے اللہ کے نبی ! میں زمانہ جاہلیت میں، ملح، نامی جگہ گیا تھا وہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں نمک نہیں ہے ، جو شخص وہاں پہنچ جائے وہ اسے حاصل کرسکتا ہے۔ اس کی مثال اس بہتے ہوئے پانی کی ہے جس کا بہاؤ ختم نہیں ہوتا ، پھر اقرع نے ، ملح، ، کے قطعہ اراضی کے بارے میں ابیض سے اقالہ کی فرمائش کی تو حضرت ابیض نے کہا میں اس میں شر ط پر تمہارے ساتھ اقالہ کرتا ہوں کہ تم اسے میری طرف سے صدقے کے طور پر استعمال کرو گے ۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے ، اس کی مثال چشمے سے بہتے ہوئے پانی کی ہے جو شخص اس تک پہنچ جائے گا وہ اسے استعمال کرے گا۔
راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ، جرف، کے مقام پر کچھ زمین اور کھجور کا باغ عنایت کیا تھا اس سے مراد، جرف، مراد ہے یہ عطاء نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت کی جب انھوں نے اس میں اقالہ کرلیا۔
فرج بن سعید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے اس کی بھی یہی صورت تھی جو اس تک پہنچ جائے گا وہ اسے حاصل کرلے گا۔