hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3491

.

سنن الدارقطني

3491
Sunan Al Daraqutni
3492 - حَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ زَوَّجَنِى خَالِى قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ بِنْتَ أَخِيهِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ عَلَى أُمِّهَا فَأَرْغَبَهَا فِى الْمَالِ وَخَطَبَهَا إِلَيْهَا فَرُفِعَ شَأْنُهَا إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ قُدَامَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةُ أَخِى وَأَنَا وَصِىُّ أَبِيهَا وَلَمْ أُقَصِّرْ بِهَا زَوَّجْتُهَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ فَضْلَهُ وَقَرَابَتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّهَا يَتِيمَةٌ وَالْيَتِيمَةُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا ». فَنُزِعَتْ مِنِّى وَزَوَّجَهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ. قَالَ الشَّيْخُ لَمْ يَسْمَعْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ نَافِعٍ وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْهُ. كَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْهُ وَتَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ .
3492 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : میرے ماموں حضرت قدامہ بن مظعون (رض) نے اپنے بھائی حضرت عثمان بن مظعون (رض) کی صاحبزادی کی شادی میرے ساتھ کردی، حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) اس لڑکی کی والدہ کے پاس تشریف لائے اور اسے زیادہ مال کی پیشکش کرکے اس لڑکی کے لیے نکاح کا پیغام دیا، یہ معاملہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو حضرت قدامہ بن مظعون (رض) نے عرض کی یارسول اللہ یہ میری بھتیجی ہے میں اس کے والد کا وصی ہوں، میں نے اس لڑکی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی، میں نے اس کی شادی اس شخص کے ساتھ کی جس کی فضٰلت اور (ہمارے ساتھ) رشتہ داری سے آپ بھی واقف ہیں، تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا یہ لڑکی ہے اور لڑکی اپنے معاملہ زیادہ حق دار ہوتی ہے۔ (حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں ) پھر اس کا مجھ سے رشتہ توڑ دیا گیا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے اس کے ساتھ شادی کرلی۔
شیخ فرماتے ہیں : محمد بن اسحاق نے اس روایت کو نافع سے نہیں سنا، انھوں نے اسے عمر بن حسین سے سنا ہے ۔
ابراہیم بن سعد نے ان کے حوالے سے یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ، جبکہ محمد بن سلمہ نے محمد بن اسحاق کے حوالے سے عمر بن حسین سے منقول ہونے کے طور پر اس کی متابعت کی ہے۔