hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3492

.

سنن الدارقطني

3492
Sunan Al Daraqutni
3493 - قُرِئَ عَلَى أَبِى مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِىُّ حَدَّثَنَا عَمِّى حَدَّثَنَا أَبِى عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ تُوُفِّىَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ بِنْتًا لَهُ مِنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ وَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ وَهُمَا خَالاَىَ فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ بِنْتِ عُثْمَانَ فَزَوَّجَنِيهَا وَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ إِلَى أُمِّهَا فَأَرْغَبَهَا فِى الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ قُدَامَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةُ أَخِى وَأَوْصَى بِهَا إِلَىِّ فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عُمَرَ وَلَمْ أُقَصِّرْ بِالصَّلاَحِ وَالْكَفَاءَةِ وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ وَإِنَّمَا حَطَّتْ إِلَى هَوَى أُمِّهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هِىَ يَتِيمَةٌ لاَ تُنْكَحُ إِلاَّ بِإِذْنِهَا ». فَانْتُزِعَتْ مِنِّى وَاللَّهِ بَعْدَ أَنْ مَلَكْتُهَا فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ.
3493 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن مظعون (رض) کا انتقال ہوگیا، انھوں نے (پسماندگان میں) ایک بیٹی چھوڑی جس کی والدہ سیدہ خولہ بنت حکیم تھیں، حضرت عثمان بن مظعون نے اپنے بھائی حضرت قدامہ بن مظعون کو وصیت کی یہ دونوں حضرات میرے ماموں تھے، میں نے حضرت قدامہ بن مظعون کو حضرت عثمان بن مظعون کی بیٹی سے نکاح کا پیغام بھجوایا، تو انھوں نے اس لڑکی کے ساتھ میری شادی طے کردی، پھر حضرت مغیرہ (رض) اس لڑکی کی ماں پاس گئے اور اسے زیادہ مال کی پیش کش کی تو وہ عورت ان کی طرف مائل ہوگئی، لڑکی نے ابھی اپنی والدہ کی خواہش کو ترجیح دی ان لوگوں کا معاملہ نبی کریم کے سامنے پیش کیا گیا تو حضرت قدامہ نے عرض کی یارسول اللہ یہ میری بھتیجی ہے ، میرے بھائی نے اس کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی میں اس کی شادی ابن عمر کے ساتھ کردو میں نے اس کی بہتری اور رشتہ ک ہم پلہ ہونے میں کوئی کمی نہیں کی، لیکن یہ اپنی ماں کی خواہش کو ترجیح دے رہی ہے تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا یہ لڑکی ہے اس کی مرضی کے بغیر اس کی شادی نہیں کی جاسکتی۔ (ابن عمر فرماتے ہیں ) اللہ کی قسم میں اس کا مالک ہوچکا تھا (یعنی نکاح ہوچکا تھا لیکن نبی کریم کے اس فرمان کی وجہ سے ) اسے مجھ سے الگ کردیا گیا اور اس کے گھروالوں نے اس کی شادی حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کے ساتھ کردی۔