3500 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِى يَحْيَى كَرْنِيبٌ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الأَفْطَسُ أَخُو أَبِى مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِىِّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِىَ كَارِهَةٌ فَأَتَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا فَتَزَوَّجَهَا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ فَجَاءَتْ بِالسَّائِبِ بْنِ أَبِى لُبَابَةَ وَكَانَتْ ثَيِّبًا.
3500 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : سیدہ خنساء بنت خذام (رض) کے والد نے اس کی شادی کردی (اس شوہر کو) وہ خاتون ناپسند کرتی تھیں، وہ نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کا بات کا تذکرہ کیا، تو نبی کریم نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔ پھر حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر نے اس کے ساتھ شادی کی ، اور اس کے ہاں حضرت ابولبابہ کے صاحبزادے ، سائب، پیدا ہوئے، وہ خاتون ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) تھی۔