3501 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ الضَّبِّىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِى - وَنِعْمَ الأَبُ هُوَ - زَوَّجَنِى ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِى مِنْ خَسِيسَتِهِ قَالَ فَجَعَلَ الأَمْرَ إِلَيْهَا فَقَالَتْ فَإِنِّى قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِى وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَنْ لَيْسَ إِلَى الآبَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ.
3501 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : ایک لڑکی نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی یارسول اللہ میرے والد جو ایک بہترین باپ ہیں انھوں نے میری شادی اپنے بھتیجے سے کردی ہے تاکہ میری وجہ سے اس کی کم حیثیت ہوجائے، تو نبی کریم نے اس لڑکی کو اختیار دیا، (کہ وہ نکاح کو کالعدم کرسکتی) ہے۔ اس نے عرض کی میرے والد نے جو کیا ہے میں اسے برقرار رکھتی ہوں ، میں یہ چاہتی ہوں کہ خواتین کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ اس بارے میں باپ کو اختیار نہیں ہوتا۔