hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3501

.

سنن الدارقطني

3501
Sunan Al Daraqutni
3502 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ غُرَابٍ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَتَاةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِى حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَوْنٌ - يَعْنِى ابْنَ كَهْمَسٍ - حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ إِنَّ أَبِى زَوَّجَنِى ابْنَ أَخِيهِ يَرْفَعُ بِى خَسِيسَتَهُ وَإِنِّى كَرِهْتُ ذَلِكَ. قَالَتِ اقْعُدِى حَتَّى يَجِىءَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَذْكُرَ ذَلِكَ لَهُ. فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَ أَبُوهَا وَجَعَلَ الأَمْرَ إِلَيْهَا فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّ الأَمْرَ جُعِلَ إِلَيْهَا قَالَتْ فَإِنِّى قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِى إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ هَلْ لِلنِّسَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ.قَالَ ابْنُ الْجُنَيْدِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ لِلنِّسَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ أَمْ لاَ.
3502 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : ایک لڑکی ان کے پاس آئی (اس کے بعد روایت اگلی حدیث میں ہے۔ ) ۔
عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں : ایک لڑکی سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی، میرے والد نے میری شادی اپنے بھتیجے کے ساتھ کردی ہے تاکہ میری وجہ سے اس کی کمتر حیثیت بہتر ہوجائے مجھے یہ پسند نہیں ہے ، سیدہ عائشہ نے فرمایا نبی کے تشریف لانے تک تم بیٹھی رہو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے معاملہ پیش کروں گی، جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو سیدہ عائشہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے معاملہ پیش کیا، نبی کریم نے اس لڑکی کے والد کو بلایا، تو نبی کریم نے (نکاح کے برقرار رکھنے یاکالعدم کرنے) کا اختیار لڑکی کو دیا، جب اس لڑکی نے یہ دیکھا کہ اسے اختیار دیا گیا ہے تو وہ بولی میرے والد نے جو کیا میں اسے برقرار رکھنا چاہتی ہوں کہ مجھے اس بات کا پتہ چل جائے کہ کیا خواتین کو اس بارے میں اختیار ہے۔
ابن جنید نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اس نے عرض کی یارسول اللہ انھوں نے جو کیا ہے میں اسے برقرار رکھتی ہوں میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے یہ پتہ چل جائے کہ خواتین کو اس بارے میں اختیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔