3503 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الرَّمَادِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَهَّرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ كَهْمَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمْ تَلْقَهُ فَجَلَسَتْ تَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ إِلَيْكَ حَاجَةً. فَقَالَ لَهَا « حَاجَتُكِ ». قَالَتْ إِنَّ أَبِى زَوَّجَنِى ابْنَ أَخٍ لَهُ لِيَرْفَعَ بِى خَسِيسَتَهُ وَلَمْ يَسْتَأْمِرْنِى فَهَلْ لِى فِى نَفْسِى أَمْرٌ قَالَ « نَعَمْ ». قَالَتْ مَا كُنْتُ لأَرُدَّ عَلَى أَبِى شَيْئًا صَنَعَهُ وَلَكِنِّى أَحْبَبْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَلَهُنَّ فِى أَنْفُسِهِنَّ أَمْرٌ أَمْ لاَ قَالَ الشَّيْخُ هَذِهِ كُلُّهَا مَرَاسِيلُ. ابْنُ بُرَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ .
3503 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : ایک عورت نبی کریم سے ملنے کے لیے آئی تو نبی کریم موجود نہیں تھے وہ عورت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتظار میں بیٹھ گئی، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں نے عرض کی یارسول اللہ اس عورت کو آپ سے کوئی کام ہے، نبی کریم نے اس سے دریافت کیا تمہیں کیا کام ہے ، اس نے بتایا میرے والد نے میری شادی اپنے بھتیجے کے ساتھ کردی تاکہ میری وجہ سے اس کی حیثیت بہتر ہوجائے، میرے والد نے اس بارے میں میری مرضی معلوم نہیں کی، تو کیا مجھے اپنی ذات کے بارے میں کوئی اختیار ہے ؟ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، ہاں، اس عورت نے عرض کی میرے والد نے جو کیا ہے میں اسے مسترد نہیں کرنا چاہوں گی، البتہ میں یہ چاہتی ہوں کہ خواتین کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ انھیں اپنی ذات کے بارے میں اختیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ تمام روایات مراسیل ہیں ، کیونکہ ابن بریدہ نامی راوی نے سیدہ عائشہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا۔