3572 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِىُّ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِى خُلُقٍ وَلاَ دِينٍ وَلَكِنْ أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِى الإِسْلاَمِ. فَقَالَ « أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ». قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ « يَا ثَابِتُ اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً »
3572 ۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت ثابت بن قیس (رض) کی اہلیہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انھوں نے عرض کی ، یارسول اللہ میں ان کے اخلاق یا دین کے حوالے سے ان سے ناراض نہیں ہوں لیکن میں مسلمان ہونے کے بعد (شوہر کی) ناشکر کو پسند نہیں کرتی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تم اس کا باغ اسے واپس کرنے کے لیے تیار ہو، اس نے عرض کی : جی ہاں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ثابت، تم اپنا باغ لے لو اور اسے طلاق دے دو۔