hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3906

.

سنن الدارقطني

3906
Sunan Al Daraqutni
3906 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ صَاحِبُ الطَّعَامِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِى قَيْسٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ رضى الله عنه فَلَمَّا أُصِيبَ عَلِىٌّ وَبُويِعَ الْحَسَنُ بِالْخِلاَفَةِ قَالَتْ لِيَهْنِكَ الْخِلاَفَةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ يُقْتَلُ عَلِىٌّ وَتُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ اذْهَبِى فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلاَثًا. قَالَ فَتَلَفَّعَتْ بِسَاجِهَا وَقَعَدَتْ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا بِعَشَرَةِ آلاَفٍ مُتْعَةً وَبَقِيَّةٍ بَقِىَ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا فَقَالَتْ مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ فَلَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُهَا بَكَى وَقَالَ لَوْلاَ أَنِّى سَمِعْتُ جَدِّى أَوْ حَدَّثَنِى أَبِى أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّى يَقُولُ « أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا مُبْهَمَةً أَوْ ثَلاَثًا عِنْدَ الأَقْرَاءِ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ». لَرَاجَعْتُهَا.
3906 ۔ سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں : عائشہ خثعمیہ نامی ایک خاتون حضرت امام حس بن علی (رض) کی اہلیہ تھی، جب حضرت علی (رض) کو شہید کردیا گیا تو اور حضرت امام حسن (رض) کے ہاتھ پر بیعت کرلی گئی تو اس خاتون نے کہا : امیرالمومنین آپ کو خلافت مبارک ہو تو امام حسن (رض) نے فرمایا، حضرت علی (رض) کو شہید کردیا گیا ہے اور تم مبارک باد دے رہی ہو، جاؤ تمہیں تین طلاقیں ہیں۔
راوی بیان کرتے ہیں : اس عورت نے اپنی چادر لپیٹ لی، یہاں تک کہ جب اس کی عدت پوری ہوگئی تو حضرت امام حسن (رض) نے اس خاتون کو اس کا بقیہ مہر اور اس کے ساتھ دس ہزار (درہم یا دینار) متاع کے طور پر بجھوائے تو وہ عورت بولی : جدا ہوجانے والے محبوب کے مقابلہ میں یہ سامان بہت تھوڑا ہے۔ جب حضرت امام حسن (رض) کو اس بارے میں بتایا گیا تو وہ رو پڑے اور فرمایا : اگر میں نے اپنے نانا کو یہ ارشاد فرماتے ہ ہوئے نہ سنا ہوتا، (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرے والد (حضرت علی (رض)) نے یہ مجھے حدیث سنائی ہے انھوں نے میرے نانا (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنی بیوی کو تین مبہم طلاقیں دے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو شخص اپنی بیوی کو تین قروء (یعنی تین طہر) کے وقت تین طلاقیں دیدیں تو وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ دوسری شادی کرکے مطلقہ یابیوہ نہ ہوجائے۔
(امام حسن فرماتے ہیں : ) تو میں اس سے رجوع کرلیتا۔