hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3907

.

سنن الدارقطني

3907
Sunan Al Daraqutni
3907 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرَيْرِىُّ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرَيْرِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شَمِرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَلِىٌّ رضى الله عنه جَاءَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ خَلِيفَةَ الْخَثْعَمِيَّةُ امْرَأَةُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ فَقَالَتْ لَهُ لِيَهْنِكَ الإِمَارَةُ . فَقَالَ لَهَا تُهَنِّينِى بِمَوْتِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ انْطَلِقِى فَأَنْتِ طَالِقٌ فَتَقَنَّعَتْ بِثَوْبِهَا وَقَالَتِ اللَّهُمَّ إِنِّى لَمْ أُرِدْ إِلاَّ خَيْرًا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِمُتْعَةٍ عَشْرَةِ آلاَفٍ وَبَقِيَّةِ صَدَاقِهَا فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهَا بَكَتْ وَقَالَتْ مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ فَأَخْبَرَهُ الرَّسُولُ فَبَكَى وَقَالَ لَوْلاَ أَنِّى أَثْبَتُّ الطَّلاَقَ لَهَا لَرَاجَعْتُهَا وَلَكِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً أَوْ عِنْدَ رَأْسِ كُلِّ شَهْرٍ تَطْلِيقَةً أَوْ طَلَّقَهَا ثَلاَثًا جَمِيعًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ».
3907 ۔ سوید بن غلفہ بیان کرتے ہیں جب حضرت علی (رض) کا انتقال ہوگیا، تو عائشہ بنت خلیفہ خثعمیہ جو حضرت امام حسن (رض) کی اہلیہ تھی ، انھوں نے حضرت امام حسن (رض) سے کہا آپ کو امیرالمومنین بننا مبارک ہو، تو حضرت امام حسن (رض) سے ان سے فرمایا : تم امیرالمومنین (یعنی حضرت علی (رض)) کی شہادت پر مجھے مبارک باد دے رہی ہو چلی جاؤ تمہیں طلاق ہے۔ اس عورت نے (روتے ہوئے) اپنا کپڑا منہ پر رکھا اور بولی اے اللہ میرا مقصد تو صرف بھلائی تھا (یعنی میرا یہ ارادہ نہیں تھا) ۔
بعد میں حضرت امام حسن نے متاع کے طور پر اس خاتون کو دس ہزار درہم یا دینار اور مہر کا بقیہ حصہ بھجوایا، جب یہ چیزیں اس کے سامنے رکھی گئیں تو وہ روپڑی اور بولی جدا ہوجانے والے محبوب کے مقابلے میں یہ سب کچھ بہت تھوڑا سا ہے۔ جب قاصد نے حضرت امام حسن کو اس بارے میں بتایا تو انھوں نے فرمایا : اگر میں نے طلاق کو اس عورت کے لیے ثابت نہ کیا ہوتا تو اس سے رجوع کرلیتا۔ لیکن میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے یوں کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے یا ہر مہینے میں ایک طلاق دے یاتین طلاقیں ایک ساتھ دیدے تو وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی، جب تک دوسرے شخص سے شادی کرکے (مطلقہ یابیوہ) نہ ہوجائے۔