4509 - قُرِئَ عَلَى أَبِى مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِىُّ وَسَمِعْتُ الزُّهْرِىَّ يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدٌ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصَانِى أَخِى عُتْبَةُ فَقَالَ إِذَا دَخَلْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِى. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِى ابْنُ أَمَةِ أَبِى وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِى. فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ « هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِى مِنْهُ يَا سَوْدَةُ » .
4509 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ سعد اور عبدبن زمعہ ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھ کر بحث کرنے لگے ‘ سعد : یارسول اللہ ! میرے بھائی عتبہ نے مجھے یہ وصیت کی تھی ‘ اس نے کہا تھا کہ جب تم مکہ میں جاؤ گے تو زمعہ کی کنیز کے بیٹے کو دیکھنا اور اسے گود میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے ‘ عبدبن زمعہ نے کہا : یارسول اللہ ! وہ میرے باپ کی کنیز کا بیٹا اور میرا بھائی ہے ‘ جو میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بچے کی عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت ملاحظہ کی تو آپ نے فرمایا : اے عبدبن زمعہ ! یہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ بستر والے کا ہوتا ہے ‘ اے سودہ ! تم اس لڑکے سے پردہ کرو۔