4560 - قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ مَنْصُورُ بْنُ أَبِى مُزَاحِمٍ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِىُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمَّادٍ الْقَاضِى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ أَبُو عُثْمَانَ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِى مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنِى قَزَعَةُ حَدَّثَنِى أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ انْتَبَذْتُ نَبِيذًا فِى دُبَّاءٍ تُحْفَةً أُتْحِفُ بِهَا النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فِى يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ فِطْرِهِ جِئْتُهُ بِهَا أَحْمِلُهَا فَقَالَ « مَا هَذَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ». قُلْتُ بِأَبِى أَنْتَ وَأُمِّى يَا رَسُولَ اللَّهِ نَبِيذٌ انْتَبَذْتُهُ لَكَ عَرَفْتُ أَنَّكَ تَصُومُ يَوْمَكَ هَذَا فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُصِيبَ مِنْهُ. فَقَالَ « ادْنُهَا مِنِّى ». فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ يَنِشُّ قَالَ « اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ فَإِنَّمَا يَشْرَبُ هَذَا مَنْ لاَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ».
4560 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے (شراب بنانے کے مخصوص برتن) دباء میں نیند تیار کی ‘ تاکہ اسے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں تحفے کے طورپر اس دن پیش کروں ‘ جب آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ جب افطاری کا وقت ہوا تو میں اسے اٹھاکر آپ کی خدمت میں لایا۔ آپ نے دریافت کیا : اے ابوہریرہ ! یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ یہ نبیذ ہے ‘ جو میں نے آپ کے لیے تیار کی۔ مجھے پتہ تھا آپ آج روزہ رکھیں گے تو میری یہ خواہش ہے کہ آپ اسے استعمال کریں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے میرے قریب کرو ‘ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا جائزہ لیاتو اس میں جوش آچکا تھا۔ آپ نے فرمایا : اسے اس دیوارپہ ماردو ‘ کیونکہ اسے وہ پیئے گا جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھتاہو۔