4605 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَ حَمَلْتُ سِلاَلاً مِنْ خَبِيصٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَمَّا وَضَعْتُهُنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتَحَ بَعْضَهُنَّ فَقَالَ يَا عُتْبَةُ كُلُّ الْمُسْلِمِينَ يَجِدُ مِثْلَ هَذَا. قُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا شَىْءٌ يُخْتَصُّ بِهِ الأُمَرَاءُ. قَالَ ارْفَعْهُ فَلاَ حَاجَةَ لِى فِيهِ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ دَعَا بِغَدَائِهِ فَأُتِىَ بِلَحْمٍ غَلِيظٍ وَبِخُبْزٍ خَشِنٍ فَجَعَلْتُ أَهْوِى إِلَى الْبَضْعَةِ أَحْسِبُهَا سَنَامًا فَإِذَا هِىَ عِلْبَاءُ الْعُنُقِ فَأَلُوكُهَا فَإِذَا غَفَلَ عَنِّى جَعَلْتُهَا بَيْنِى وَبَيْنَ الْخِوَانِ ثُمَّ دَعَا بِنَبِيذٍ لَهُ قَدْ كَادَ أَنْ يَصِيرَ خَلاًّ فَمَزَجَهُ حَتَّى إِذَا أَمْكَنَ شَرِبَ وَسَقَانِى ثُمَّ قَالَ يَا عُتْبَةُ إِنَّا نَنْحَرُ كُلَّ يَوْمٍ جَزُورًا فَأَمَّا وَرِكُهَا وَأَطَايِبُهَا فَلِمَنْ حَضَرَنَا مِنْ أَهْلِ الآفَاقِ وَالْمُسْلِمِينَ وَأَمَّا عُنُقُهَا فَلَنَا نَأْكُلُ هَذَا اللَّحْمَ الْغَلِيظَ الَّذِى رَأَيْتَ وَنَشْرَبُ عَلَيْهِ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ يَقْطَعُهُ فِى بُطُونِنَا
4605 ۔ عتبہ بن فرقدبیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں مٹھائی کے تھال لے کر آیا ‘ وہ میں نے ان کے سامنے رکھے ‘ انھوں نے ان میں سے کسی ایک کو کھول کر دیکھا تودریافت کیا : اے عتبہ ! تمام مسلمانوں کو یہ چیز نصیب ہوجاتی ہے۔ میں نے عرض کی : جی نہیں ! یہ چیز صرف امیرلوگوں کو ملتی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم اسے اٹھالو ‘ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں : اسی دوران میری موجودگی میں انھوں نے کھانا منگوالیا تو ان کے لیے موٹاگوشت اور سخت روٹی لائے گئے میں نے اس گوشت کو کھانے کا ارادہ کیا ‘ میں اسے کوہان کا گوشت سمجھا تھا لیکن وہ گردن کا گوشت تھا ‘ پس اسے منہ میں چناتارہا ‘ جب وہ میری طرف سے غافل ہوئے تو میں نے اس گوشت کو اپنے اور دسترخوان کے درمیان میں رکھ دیا ‘ پھر حضرت عمر (رض) نے نبی ذمنگوائی جو سرکہ بننے والی تھی ‘ انھوں نے اس میں تھوڑاساپانی ملایا ‘ پھر اسے تھوڑی دیروی سے ہی رہنے دیا ‘ پھر وہ مجھے بھی پلایا اور خود بھی پیا ‘ پھر بولے : اے عتبہ ! ہم روزانہ اونٹ کا گوشت پکاتے ہیں اور اس کا سرین کا اچھا گوشت مہمان کو یا عام مسلمانوں کو کھلا دیتے ہیں اور گردن کا وہ گوشت جو گلتا نہیں ہے اسے خود کھاتے ہیں ‘ جو تم نے ابھی دیکھا بھی ہے ‘ اس کے بعدیہ نبی ذپی لیتے ہیں تاکہ ہمارے پیٹ میں وہ گوشت ہضم ہوجائے۔