4610 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدَيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِى قَيْسٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ الْكَلْبِىِّ عَنْ أَبِى صَالِحٍ بَاذَانَ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِى وَدَاعَةَ قَالَ طَافَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِالْبَيْتِ وَقَالَ « اسْقُونِى ». فَأُتِىَ بِنَبِيذِ زَبِيبٍ فَشَرِبَ فَقَطَّبَ فَرَدَّهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَشَرَابٌ فَسَكَتَ فَأَعَادَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ فَقَالَ يَا نَبِىَّ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَشَرَابُ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ آخِرِهِمْ قَالَ « رُدَّهُ ». وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَصُبُّوا عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَقُولُ « صُبَّ ». ثُمَّ عَادَ حَتَّى أَمْكَنَ شُرْبُهُ فَقَالَ « اصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ».
4610 ۔ حضرت مطلب بن ابو وداعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : مجھے کچھ پینے کے لیے دو ! تو آپ کی خدمت میں کشمش کی نبی ذلائی گئی ‘ آپ نے اسے کچھ پیا اور پھر اسے واپس کردیا ‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا یہ حرام ہے ؟ اللہ کی قسم ! یہ تو ایک مشروب ہے۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے ‘ انھوں نے دوبارہ آپ سے یہ سوال کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر خاموش رہے ‘ انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! کیا یہ حرام ہے ؟ اللہ کی قسم ! یہ تو اہل مکہ کا مخصوص مشروب ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے واپس میرے پاس لے آؤ ! پھر آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں پانی ملادیں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے گھونٹ گھونٹ بھر کے پینے لگے۔ آپ یہ ارشاد فرماتے رہے : تھوڑاساپانی اور ڈال دو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بار ‘ باریہی ارشاد فرماتے رہے ‘ یہاں تک کہ وہ پینے کے قابل ہوگیا ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس کے ساتھ اس طرح کرلیاکرو۔