(۱۵۴۰۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ أَبِی ہُبَیْرَۃَ ، قَالَ : کَتَبَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِ الرَّیِّ إلَی إبْرَاہِیمَ ، إِنَّہَا مُوسِرَۃٌ وَلَیْسَ لَہَا بَعْلٌ ، وَلاَ مَحْرَمٌ ، وَلَمْ تَحُجَّ قَطُّ ، فَکَتَبَ إلَیْہَا إبْرَاہِیمُ : إنَّ ہَذَا مِنَ السَّبِیلِ الَّذِی ، قَالَ اللَّہُ وَلَیْسَ لَکِ مَحْرَمٌ ، فَلاَ تَحُجِّی إِلاَّ مَعَ بَعْلٍ ، أَوْ مَحْرَمٍ۔
(١٥٤٠٠) اھل الری کی ایک خاتون نے حضرت ابراہیم کو لکھا کہ وہ مالدار ہے اور اس کا شوہر بھی نہیں ہے اور کوئی محرم بھی نہیں ہے اور اس نے آج تک حج بھی نہیں کیا ہوا، حضرت ابراہیم نے اس کو لکھ کر بھیجا کہ : بیشک یہ وہ راستہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور تیرے پاس کوئی محرم بھی نہیں ہے، تو شوہر اور محرم کے سوا ہرگز حج نہ کر۔