(۱۹۸۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ الْغَازِ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا تَعُدُّونَ الشَّہِیدَ فِیکُمْ ؟ قَالُوا : الَّذِی یُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللہِ فَیُقْتَلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ شُہَدَائَ أُمَّتِی اِذَنْ لَقَلِیلٌ ، الْقَتِیلُ فِی سَبِیلِ اللہِ شَہِیدٌ ، وَالْمَطْعُونُ شَہِیدٌ ، وَالْمَبْطُونُ شَہِیدٌ ، وَالْمَرْأَۃُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ یَعْنِی حَامِلاً شَہِیدٌ۔ (احمد ۵/۳۱۵۔ دارمی ۲۴۱۴)
(١٩٨٢٢) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے پوچھا کہ تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ انھوں نے کہا جو اللہ کے راستے میں قتال کرے اور جان دے دے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس طرح تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، بچے کو جنم دیتے ہوئے مرنے والی عورت بھی شہید ہے۔