(۲۳۴۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ التَّنُوخِیُّ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أبی الْمُہَاجِرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الأَشْعَرِیِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : وَیْلٌ لِدَیَّانِ أَہْلِ الأَرْضِ مِنْ دَیَّانِ أَہْلِ السَّمَائِ یَوْمَ یَلْقَوْنَہُ إلاَّ مَنْ أَمَّ الْعَدْلَ وَقَضَی بِالْحَقِّ ، وَلَمْ یَقْضِ لِہَوًی ، وَلاَ قَرَابَۃٍ ، وَلاَ لِرَغْبَۃٍ ، وَلاَ لِرَہْبَۃٍ ، وَجَعَلَ کِتَابَ اللہِ مِرْآۃً بَیْنَ عَیْنَیْہِ۔
(٢٣٤١٦) حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ زمین کے حاکم کی آسمانوں کے حاکم کے سامنے ہلاکت ہوگی جس دن زمین والا حاکم اوپر والے حاکم سے ملے گا۔ سوائے اس حاکم کے جس نے عدل و انصاف کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا ہوگا کسی خواہش یا رشتہ داری یا رغبت اور خوف سے مغلوب ہو کر نہیں کیا ہوگا اور اللہ کی کتاب کو اپنی آنکھوں کے سامنے آئینہ بنا کر رکھا۔