(۲۹۶۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : بَعَثَ عَلِیٌّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی بَکْرٍ أَمِیرًا عَلَی مِصْرَ ، فَکَتَبَ مُحَمَّدٌ إِلَی عَلِیٍّ یَسْأَلُہُ عَنْ زَنَادِقَۃٍ ؛ مِنْہُمْ مَنْ یَعْبُدُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ، وَمِنْہُمْ مَنْ یَعْبُدُ غَیْرَ ذَلِکَ ، وَمِنْہُمْ مَنْ یُدْعَی لِلإِسْلاَمِ ؟ فَکَتَبَ عَلِیٌّ وَأمَرَہُ بِالزَّنَادِقَۃِ ؛ أَنْ یَقْتُلَ مَنْ کَانَ یَدْعِی الإِسْلاَمِ ، وَیُتْرَکُ سَائِرُہُمْ یَعْبُدُونَ مَا شَاؤُوا۔
(٢٩٦١٣) حضرت مخارق فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے محمد بن ابی بکر کو مصر پر امیر بنا کر بھیجا، پس محمد نے حضرت علی کو خط لکھ کر آپ سے زنادقہ کے متعلق پوچھا : ان میں سے کچھ لوگ سورج اور چاند کو پوجتے ہیں، اور ان میں سے کچھ ان کے علاوہ چیزوں کو پوجتے ہیں اور ان میں سے کچھ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ حضرت علی نے خط لکھا اور انھیں زنادقہ کے متعلق حکم دیا کہ : وہ ان کو قتل کردیں جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور باقی سب کو چھوڑ دیں وہ جس کی چاہیں عبادت کریں۔