(۲۹۶۱۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ عَلِیًّا أَخَذَ زَنَادِقَۃً فَأَحْرَقَہُمْ ، قَالَ : فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَلَوْ کُنْتُ لَمْ أُعَذِّبْہُمْ بِعَذَابِ اللہِ ، وَلَوْ کُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتہمْ ، لِقَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَدَّلَ دِینَہُ فَاقْتُلُوہُ۔
(٢٩٦١٤) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کو خبر پہنچی کہ حضرت علی نے زندیقوں کو پکڑ کر ان کو جلا ڈالا ہے۔ تو آپ نے فرمایا : جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ان کو اللہ کے عذاب کے طریقہ سے عذاب نہیں دیتا اور اگر میں ہوتا تو میں ان کو قتل کردیتا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کی وجہ سے کہ جو شخص اپنا دین تبدیل کرلے تو تم اسے قتل کردو۔