(۲۹۶۱۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ ابْنِ عُبَیْدِ بْنِ الأَبْرَصِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ؛ أَنَّہُ أُتِیَ بِرَجُلٍ کَانَ نَصْرَانِیًّا فَأَسْلَمَ ، ثُمَّ تَنَصَّرَ ، قَالَ : فَسَأَلَہُ عَنْ کَلِمَۃٍ ، فَقَالَ لَہُ ، فَقَامَ إِلَیْہِ عَلِیٌّ فَرَفَسَہُ بِرِجْلِہِ ، فَقَامَ النَّاسُ إِلَیْہِ فَضَرَبُوہُ حَتَّی قَتَلُوہُ۔
(٢٩٦١٥) حضرت ابن عبید بن ابرصی فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو عیسائی تھا پس اس نے اسلام قبول کرلیا پھر اس نے عیسائیت اختیار کرلی۔ راوی کہتے ہیں آپ نے اس سے اس بات کے متعلق پوچھا : تو اس نے آپ کو بتادیا۔ سو حضرت علی اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کے سینہ پر اپنی لات ماری تو لوگ بھی کھڑے ہو کر اسے مارنے لگے یہاں تک کہ اسے قتل کردیا۔