(۲۹۶۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ فِی قَوْلِہِ : {إِنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِی الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ یُقَتَّلُوا ، أَوْ یُصَلَّبُوا ، أَوْ تُقَطَّعَ أَیْدِیہِمْ وَأَرْجُلُہُمْ مِنْ خِلاَفٍ} حَتَّی خَتَمَ الآیَۃَ ، فَقَالَ : إِذَا حَارَبَ الرَّجُلُ فَقَتَلَ وَأَخَذَ الْمَالَ ، قُطِعَتْ یَدُہُ وَرِجْلُہُ مِنْ خِلاَفٍ وَصُلِبَ ، وَإِذَا قَتَلَ وَلَمْ یَأْخُذِ الْمَالَ قُتِلَ ، وَإِذَا أَخَذَ الْمَالَ وَلَمْ یَقْتُلْ ، قُطِعَتْ یَدُہُ وَرِجْلُہُ مِنْ خِلاَفٍ ، وَإِذَا لَمْ یَقْتُلْ وَلَمْ یَأْخُذِ الْمَالَ نُفِیَ۔
(٢٩٦٢٦) حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے آیت کی تفسیر مروی ہے ” صرف یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو جنگ کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور بھاگ دوڑ کرتے ہیں زمین میں فساد مچانے کے لیے کہ وہ قتل کیے جائیں سولی پر چڑھائے جائیں یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے یہاں تک کہ انھوں نے آیت ختم کی۔ آپ نے فرمایا : جب آدمی جنگ کرے، پس قتل کر دے اور مال چھین لے تو اس کا ایک ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جائے اور سولی پر چڑھا دیا جائے۔ اور جب قتل کرے اور مال نہ چھینے تو اسے بھی قتل کردیا جائے، اور جب مال چھین لے اور قتل نہ کرے تو اس کا ایک ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جائے اور جب قتل نہ کرے اور نہ مال چھینے تو اسے جلا وطن کردیا جائے۔