(۲۹۷۰۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَن مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : ضَرَبَتِ امْرَأَۃٌ امْرَأَۃً فَقَتَلَتْہَا وَأَلْقَتْ جَنِینًا مَیِّتًا، قَالَ : فَقَضَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالدِّیَۃِ عَلَی عَاقِلَۃِ الْقَاتِلَۃِ ، وَلَمْ یَجْعَلْ عَلَی وَلَدِہَا ، وَلا عَلَی زَوْجِہَا شَیْئًا وَقَضَی بِالدِّیَۃِ لِزَوْجِ الْمَقْتُولَۃِ وَوَلَدِہَا ، وَلَمْ یَجْعَلْ لِعَصَبَتِہَا مِنْہَا شَیْئًا۔
(٢٩٧٠١) حضرت شعبی کہتے ہیں کہ ایک عورت نے دوسری عورت کو اتنی زور سے مارا کہ اس کو قتل کردیا اور اس مردہ عورت نے ایک مرا ہوا بچہ جنا۔ شعبی کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیت کا بوجھ قاتلہ عورت کے خاندان والوں پر ڈالا اور قاتلہ عورت کے بیٹے اور شوہر پر دیت کا کچھ بار بھی نہیں ڈالا ، اور دیت کا فیصلہ مقتولہ عورت کے شوہر اور بیٹے کے لیے کیا اور مقتولہ عورت کے عصبی رشتہ داروں کو اس دیت میں سے کچھ حصہ بھی نہیں دیا۔