(۲۹۸۶۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن زِیَادِ بْنِ فَیَّاضٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ یُحَدِّثُ ، عَن سَعْدٍ ، أَنَّہُ کَانَ إذَا تَشَہَّدَ قَالَ : سُبْحَانَ اللہِ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمَا بَیْنَہُنَّ ، وَمَا تَحْتَ الثَّرَی ، قَالَ شُعْبَۃُ : لاَ أَدْرِی اللَّہُ أَکْبَرُ قَبْلُ ، أَوِ الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ ، لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُک مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ ، ثُمَّ یُسَلِّمُ۔
(٢٩٨٦٩) حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد جب تشھد پڑھ لیتے پھر یہ دعا فرماتے : اللہ ہی کے لیے پاکی ہے جس سے آسمان بھر جائیں اور زمین بھر جائے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ بھر جائے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے وہ بھر جائے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہں ہ : میں نہیں جانتا : پہلے اللہ سب سے بڑا ہے کہا یا یوں کہا : اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں تعریف ، پاکیزہ اور بابرکت ہے، نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کا ملک ہے اور اس کے لیے ہی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اے اللہ ! میں آپ سے تمام بھلائی کا سوال کرتا ہوں، پھر حضرت سعد سلام پھیر دیتے۔