(۲۹۹۴۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَن مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ قَالَ : حدَّثَنِی أَزْہَرُ بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَیْدٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ : مَاذَا کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْتَتِحُ بِہِ قِیَامَ اللَّیْلِ ؟ قَالَتْ : لَقَدْ سَأَلْتنِی عَن شَیْئٍ مَا سَأَلَنِی عَنہُ أَحَدٌ قَبْلَک، کَانَ یُکَبِّرُ عَشْرًا وَیَحْمَدُ عَشْرًا وَیُسَبِّحُ عَشْرًا وَیَسْتَغْفِرُ عَشْرًا وَیَقُولُ: اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی وَعَافِنِی وَیَتَعَوَّذُ مِنْ ضِیقِ الْمَقَامِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔(ابوداؤد ۷۶۲۔ ابن حبان ۲۶۰۲)
(٢٩٩٤٨) حضرت عاصم بن حمید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کن کلمات کے ساتھ رات کو قیام شروع فرماتے تھے ؟ حضرت عائشہ فرمانے لگیں : البتہ تحقیق تو نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے جس کا تجھ سے پہلے کسی نے بھی سوال نہیں کیا، پھر فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دس مرتبہ تکبیر کہتے، اور دس مرتبہ حمد بیان کرتے، اور دس مرتبہ پاکی بیان کرتے، اور دس مرتبہ استغفار فرماتے، اور یوں دعا فرماتے :” اے اللہ ! تو میری مغفرت فرما، اور مجھے ہدایت عطا فرما، اور مجھے رزق عطا فرما، اور مجھے عافیت بخش دے۔ “ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے بھی پناہ مانگتے تھے۔