(۲۹۹۶۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ قَالَ : حدَّثَنِی رِبْعِیُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، أَنَّہُ قَالَ : جَائَ حُصَیْنٌ إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ یُسْلِمَ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ ، مَا تَأْمُرُنِی أَنْ أَقُولَ ؟ قَالَ : تَقُولُ : اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی ، وَأَسْأَلُک أَنْ تَعْزِمَ لِی عَلَی أَرْشَدِ أَمْرِی ، قَالَ : ثُمَّ إنَّ حُصَیْنًا أَسْلَمَ بَعْدُ ، ثُمَّ أَتَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إنِّی کُنْت سَأَلْتُک الْمَرَّۃَ الأُولَی ، وَإِنِّی الآنَ أَقُولُ : مَا تَأْمُرُنِی أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلِ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَسْرَرْت ، وَمَا أَعْلَنْت ، وَمَا أَخْطَأْت ، وَمَا تَعَمَّدْت ، وَمَا جَہِلْت ، وَمَا عَلِمْت۔ (ترمذی ۳۴۸۳۔ احمد ۴۴۴)
(٢٩٩٦٤) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ حضرت حصین اسلام لانے سے قبل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے گے : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے کیا چیز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم یہ دعا پڑھا کرو، ” اے اللہ ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ مجھے میرے صحیح معاملہ پر پختہ کردیں۔ “ راوی فرماتے ہیں : پھر اس کے بعد حضرت حصین نے اسلام قبول کرلیا۔ اور پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے : میں نے پہلی مرتبہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی سوال کیا تھا اور اب میں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کرتا ہوں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کیا چیز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو یہ دعا پڑھ : اے اللہ ! تو میری مغفرت فرما ان کاموں سے جو میں نے پوشیدہ طور پر کیے، اور جو میں نے اعلانیہ کیے، اور جو میں نے غلطی سے کیے، اور جو میں نے جان بوجھ کر کیے، اور جو میں نے ناواقفیت سے کیے، اور جو میں نے جانتے بوجھتے ہوئے کیے۔