(۳۰۱۹۵) حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَن حُصَیْنٍ ، قَالَ : الْتَقَی إبْرَاہِیمُ ، وَمُجَاہِدٌ فَقَالا : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَشَکَا إلَیْہِ الْجُوعَ ، قَالَ : فَدَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی بُیُوتِہِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ : مَا وَجَدْت لَکَ فِی بُیُوتِ آلِ مُحَمَّدٍ شَیْئًا ، قَالَ : فَبَیْنَمَا ہُوَ کَذَلِکَ إذْ جَائَتْہُ شَاۃٌ مَصْلِیَّۃٌ ، وَقَالَ الآخَرُ جَائَتْہُ قَصْعَۃٌ مِنْ ثَرِیدٍ ، فَوُضِعَتْ بَیْنَ یَدَیَ الأَعْرَابِی ، فَقَالَ لہ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اطْعَمْ ، قَالَ : فَأَکَلَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ أَصَابَنِی الَّذِی أَصَابَنِی ، فَرَزَقَنِی اللَّہُ عَلَی یَدَیْک ، أَفَرَأَیْت إِنْ أَصَابَنِی ، وَأَنَا لَسْت عِنْدَکَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قُلِ : اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُک مِنْ فَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ ، فَإِنَّہُ لاَ یَمْلِکُہُمَا إِلاَّ أَنْتَ ، فَإِنَّ اللَّہَ رَازِقُک۔ (طبرانی ۱۰۳۷۹)
(٣٠١٩٥) حضرت حصین سے روایت ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت مجاہد کی ملاقات ہوئی تو ان دونوں نے فرمایا کہ ایک دیہاتی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھوک کی شکایت کی۔ راوی فرماتے ہیں۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھروں میں داخل ہوئے پھر نکلے۔ اور فرمایا : میں نے تیرے لیے آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں کوئی چیز نہیں پائی، راوی فرماتے ہیں ، اس درمیان ہی اچانک ایک بھونی ہوئی بکری کا بچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا گیا۔ اور دوسرے راوی فرماتے ہیں ! کہ ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا۔ پس اس کو دیہاتی کے سامنے رکھ دیا گیا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے ارشاد فرمایا : تم کھاؤ ، راوی فرماتے ہیں ! پس اس نے کھالیا، پھر کہنے لگا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے جو مصیبت پہنچی تھی وہ پہنچ چکی۔ پھر اللہ نے مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں رزق عطا فرمایا، پس آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر مجھے پھر بھوک آ لے اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہ ہوں ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم یہ کلمات پڑھنا : اے اللہ ! میں آپ سے آپ کے فضل کا سوال کرتا ہوں اور آپ کی رحمت کا ۔ یقیناً آپ کے سوا اس کا کوئی مالک نہیں ہے۔ پس یقیناً اللہ ہی تجھ کو رزق دینے والا ہے۔