(۳۲۳۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : نَزَلْنَا یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ فَوَجَدْنَا مَائَہَا قَدْ شَرِبَہُ أَوَائِلُ النَّاسِ فَجَلَسَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْبِئْرِ ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْہَا ، فَأَخَذَ مِنْہُ بَفِیِہ ، ثُمَّ مَجَّہُ فِیہَا وَدَعَا اللَّہَ ، فَکَثُرَ مَاؤُہَا حَتَّی تَرَوَّی النَّاسُ مِنْہَا۔ (بخاری ۳۵۷۷۔ احمد ۲۹۰)
(٣٢٣٨٣) حضرت براء فرماتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ کے دن پڑاؤ کیا تو ہم نے دیکھا کہ اس کا پانی پہلے آنے والے لوگوں نے پی لیا تھا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنویں پر بیٹھ گئے اور ایک ڈول منگایا، اور اس میں سے اپنے منہ مبارک میں پانی لیا اور اس میں ڈال دیا اور اللہ سے دعا کی ، چنانچہ اس کا پانی زیادہ ہوگیا، یہاں تک کہ لوگ اس سے سیراب ہوگئے۔