(۳۲۸۵۴) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَسَأَلَہُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ ؟ فقال لہ ابن عمر : ممن أنت ؟ فقال : رجل مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : ہَا انْظُرُوا ہَذَا یَسْأَلُنِی عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَہُمْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : ہُمَا رَیْحَانَتِی مِنَ الدُّنْیَا۔ (بخاری ۵۹۹۴۔ احمد ۹۳)
(٣٢٨٥٤) حضرت ابن ابی نعیم (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے مچھر کے خون سے متعلق سوال کیا۔ تو حضرت ابن عمر (رض) نے اس سے ارشاد فرمایا : تم کہاں کے ہو ؟ اس نے کہا : کہ میں اہل عراق میں سے ہوں۔ اس پر حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : اوہ ! لوگو اس کی طرف دیکھو یہ ایک مچھر کے خون کے متعلق مجھ سے سوال کررہا ہے حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے کو قتل کردیا ! اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا کہ : وہ دونوں میری دنیا کی بہاریں ہیں۔