(۳۳۵۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عُتْبَۃُ أَذْرَبِیجَانَ بِالْخَبِیصِ فَذَاقَہُ فَوَجَدَہُ حُلْوًا ، فَقَالَ : لَوْ صَنَعْتُمْ لأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ ہَذَا ، قَالَ : فَجَعَلَ لَہُ سَفَطَیْنِ عَظِیمَیْنِ ، ثُمَّ حَمَلَہُمَا عَلَی بَعِیرٍ مَعَ رَجُلَیْنِ فَبَعَثَ بِہِمَا إلَیْہِ ، فَلَمَّا قَدِمَا عَلَی عُمَرَ ، قَالَ : أَیَّ شَیْئٍ ہَذَا ، قَالَ : ہَذَا خَبِیصٌ ، فَذَاقَہُ فَإِذَا ہُوَ حُلْوٌ ، فَقَالَ : أَکُلَّ الْمُسْلِمِینَ یُشْبِعُ مَنْ ہَذَا فِی رَحْلِہِ ؟ قَالُوا : لاَ قَالَ : فَرُدَّہُمَا ، ثُمَّ کَتَبَ إلَیْہِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ کَدِّکَ ، وَلاَ مِنْ کَدِّ أَبِیک ، وَلاَ مِنْ کَدِّ أُمِّکَ أَشْبِعِ الْمُسْلِمِینَ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْہُ فِی رَحْلِک۔
(٣٣٥٨٨) حضرت ابو عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ (رض) جب آذر بائیجان آئے تو ان کے پاس حلوہ لایا گیا انھوں نے اس کو چکھا تو اس کو میٹھا پایا۔ آپ (رض) نے فرمایا : اگر تم لوگ اس میں سے کچھ امیر المؤمنین کے لیے بناؤ تو بہت اچھا ہوگا پس انھوں نے دو بڑی ٹوکریاں آپ (رض) کے لیے تیار کردیں پھر ان دونوں کو ایک اونٹ پر لاد کردو آدمیوں کے ساتھ ان کو حضرت عمر (رض) کے پاس بھیج دیا پس جب وہ دونوں حضرت عمر (رض) کے پاس آئے۔ تو آپ (رض) نے پوچھا : یہ کیا چیز ہے ؟ انھوں نے کہا : یہ حلوہ ہے۔ آپ (رض) نے اس کو چکھا : تو آپ (رض) نے بھی اس کو میٹھا اور مزیدارپایا۔ آپ (رض) نے پوچھا : کیا ان کے قافلہ میں تمام مسلمان اس سے سیر ہوئے ؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں ! آپ (رض) نے یہ دونوں ٹوکریاں واپس لوٹا دیں پھر ان کی طرف خط لکھا : حمدو صلوۃ کے بعد، بلاشبہ نہ یہ تمہارے باپ کی کوشش سے ہے اور نہ تمہاری ماں کی کوشش سے ہے۔ جس چیز سے تم سیر ہوتے ہو اسی چیز سے اپنے قافلے میں موجود مسلمانوں کو سیر کرو۔