hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 33588

.

ابن أبي شيبة

33588
Ibn Abi Shaybah
(۳۳۵۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِی عُتْبَۃُ بْنُ فَرْقَدٍ السُّلَمِیُّ ، قَالَ : قَدِمْت عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِسِلاَلِ خَبِیصٍ عِظَامٍ مَمْلُوئَۃٍ ، لَمْ أَرَ أَحْسَن مِنْہُ وَأَجیَد ، فَقَالَ : مَا ہَذِہِ فَقُلْت : طَعَامٌ أَتَیْتُک بِہِ ، إنَّک تَقْضِی مِنْ حَاجَاتِ النَّاسِ أَوَّلَ النَّہَارِ ، فَإِذَا رَجَعْت أَصَبْت مِنْہُ قَالَ : اکْشِفْ عَنْ سَلَّۃٍ مِنْہَا ، قَالَ : فَکَشَفْت ، قَالَ : عَزَمْت عَلَیْک إذَا رَجَعْت إِلاَّ رَزَقْت کُلَّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِنْہَا سَلَّۃً ، قَالَ : قُلْتُ : وَالَّذِی یَصْلُحُک یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، لَوْ أَنْفَقْت مَالَ قَیْسٍ کُلَّہُ مَا بَلَغَ ذَلِکَ ، قَالَ : فَلاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ ، ثُمَّ دَعَا بِقَصْعَۃٍ فِیہَا ثَرِیدٌ مِنْ خُبْزٍ خَشِنٍ وَلَحْمٍ غَلِیظٍ وَہُوَ یَأْکُلُ مَعِی أَکْلاً شَہِیًّا ، فَجَعَلْتُ أَہْوِی إلَی الْبِضْعَۃِ الْبَیْضَائِ أَحْسِبُہَا سَنَامًا فَأَلُوکُہَا فَإِذَا ہِیَ عَصَبَۃٌ ، وَآخُذُ الْبِضْعَۃَ مِنَ اللَّحْمِ فَأَمْضُغُہَا فَلاَ أَکَادُ أَسِیغُہَا ، فَإِذَا غَفَلَ عَنِّی جَعَلْتہَا بَیْنَ الْخِوَانِ وَالْقَصْعَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا عُتْبَۃُ ، إنَّا نَنْحَرُ کُلَّ یَوْمٍ جَزُورًا ، فَأَمَّا وَدَکُہَا وَأَطْیابُہَا فَلِمَنْ حَضَرَ مِنْ آفَاقِ الْمُسْلِمِینَ ، وَأَمَّا عُنُقُہَا فَإِلَیَ عُمَرَ۔
(٣٣٥٨٩) حضرت قیس بن ابی حازم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن فرقد السلمی (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس بڑی ٹوکریاں حلوے سے بھری ہوئی لایا۔ میں نے اس سے زیادہ اور مزیدار حلوہ نہیں دیکھا تھا۔ آپ (رض) نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ کھانا میں آپ (رض) کے لیے لایا ہوں۔ اس لیے کہ آپ (رض) ایسے آدمی ہیں جو دن کا ابتدائی حصہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں گزارتے ہیں اور جب آپ (رض) لوٹتے ہیں تو آپ اس وجہ سے تھک جاتے ہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : ٹوکری سے کپڑا ہٹاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ہٹا دیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم جب واپس جاؤ تو مسلمانوں کے تمام آدمیوں کو اس ٹوکری میں سے حصہ دینا۔ میں نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے اے امیرالمؤمنین آپ (رض) کو درست رکھا ! اگر میں بنو قیس کا سارا مال بھی خرچ کر دوں تو وہ اتنی مقدار کو نہیں پہنچے گا ۔ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ہے۔
پھر آپ (رض) نے ایک پیالہ منگوایا جس میں بن چھنے آٹے اور سخت گوشت کی ثرید تھی۔ آپ (رض) میرے ساتھ اسے بہت پسند سے کھا رہے تھے۔ میں نے ایک سفید ٹکڑے کی طرف ہاتھ بڑھایا میں اس کو کوہان کا حصہ سمجھ رہا تھا۔ میں نے اس کو چبایا تو وہ پیٹھے کا حلوہ نکلا۔ میں نے ایک گوشت کا ٹکڑا لیا میں نے اس کو چبایا پس وہ میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رہا تھا۔ جب آپ (رض) مجھ سے تھوڑے سے غافل ہوئے تو میں نے اس ٹکڑے کو پیالہ اور دسترخوان کے درمیان رکھ دیا ۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : اے عتبہ ! یقیناً ہم ہر روز ایک اونٹ نحر کرتے ہیں۔ اس کی چربی اور اچھا حصہ ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو مسلمان دور دراز سے آئے ہوئے ہوتے ہیں اور اس کی گردن عمر کے لیے ہوتی ہے ! ! !