(۳۳۵۹۰) حَدَّثَنَا حُسَین بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : مَرَرْت وَالنَّاسُ یَأْکُلُونَ ثَرِیدًا وَلَحْمًا ، فَدَعَانِی عُمَرُ إلَی طَعَامِہِ ، فَإِذَا ہُوَ یَأْکُلُ خُبْزًا غَلِیظًا وَزَیْتًا ، فَقُلْتُ : مَنَعْتنِی أَنْ آکُلَ مَعَ النَّاسِ الثَّرِیدَ ، وَدَعَوْتنِی إلَی ہَذَا قَالَ : إنَّمَا دَعَوْتُک لِطَعَامِی ، وَذَاکَ لِلْمُسْلِمِینَ۔
(٣٣٥٩٠) حضرت زید بن وھب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) نے ارشاد فرمایا : میں گزرا اس حال میں کہ لوگ ثرید اور گوشت کھا رہے تھے ۔ پس حضرت عمر (رض) نے مجھے اپنے کھانے کی دعوت دی۔ آپ (رض) موٹی روٹی اور تیل کھا رہے تھے۔ میں نے کہا : آپ (رض) ہی نے مجھے لوگوں کے ساتھ ثرید کھانے سے منع کیا تھا اور آپ (رض) ہی مجھے اس کی دعوت دے رہے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے تو تمہیں اپنے کھانے کی دعوت دی ہے۔ اور مسلمانوں کا کھانا تو وہ ہے۔