(۳۳۷۶۰) حَدَّثَنَا عیِسیَ بْنُ یُونُسَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ وَہِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : بَارَزَ الْبَرَائُ بْنُ مَالِکٍ ، وَقَالَ ہِشَامٌ : حَمَلَ الْبَرَائُ بْنُ مَالِکٍ عَلَی مَرْزُبَانِ الزَّارَۃِ یَوْمَ الزَّارَۃِ ، وَطَعَنَہُ طَعْنَۃً ، دَقَّ قَرْبُوسَ سَرْجِہِ فَقَتَلَہُ وَسَلَبَہُ سِوَارَیْہِ وَمِنْطَقَتَہُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا صَلَّی عُمَرُ الصُّبْحَ ، ثُمَّ أَتَانَا ، فَقَالَ : أَثَمَّ أَبُو طَلْحَۃَ ؟ فَخَرَجَ إلَیْہِ ، فَقَالَ : إنَّا کُنَّا لاَ نُخَمِّسُ السَّلَبَ ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَائِ مَالٌ فَخُمُسُہُ فَبَلَغَ سِتَّۃَ آلاَفٍ ، بَلَغَ ثَلاَثِینَ أَلْفًا ، قَالَ مُحَمَّدُ : فَحَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّہُ أَوَّلُ سَلَبٍ خُمِّسَ فِی الإِسْلاَمِ۔
(٣٣٧٦٠) حضرت عیسیٰ بن یونس (رض) حضرت ابن عون اور حضرت ہشام ان دونوں سے اور حضرت ابن سیرین (رض) حضرت انس بن مالک (رض) سے نقل کرتے ہیں۔ حضرت ابن عون نے یوں فرمایا کہ حضرت براء بن مالک (رض) نے مقابلہ کیا اور حضرت ہشام (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت براء بن مالک (رض) نے جنگ زارہ کے دن مرزبان زارہ پر حملہ کردیا اور آپ (رض) نے اس کو نیزہ مارا جو اس کی زین کے ابھرے ہوئے کنارے میں گھس گیا اور وہ مرگیا اور آپ (رض) نے اس کے کنگن اور کمر بند لے لیے۔ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ جب ہم واپس لوٹے تو حضرت عمر (رض) نے صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ (رض) ہمارے پاس تشریف لائے۔ اور پوچھا کہ کیا ابو طلحہ یہاں ہیں ؟ اتنے میں حضرت ابو طلحہ آپ (رض) کے پاس نکل آئے تو آپ (رض) نے فرمایا : یقیناً ہم مقتول کے مال میں سے خمس نہیں لیتے۔ لیکن براء کے مقتول کا سامان بہت زیادہ مال ہے پس آپ (رض) نے اس میں سے خمس وصول کیا جو چھ ہزار بنا اس لیے کہ اس کی کل قیمت تیس ہزار تھی۔ امام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک (رض) نے مجھ سے بیان کیا : کہ اسلام میں یہ پہلا مقتول سے چھینا ہوا سامان تھا جس میں سے خمس وصول کیا گیا۔