(۳۳۷۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : کَانَ السَّلَبُ لاَ یُخَمَّسُ ، فَکَانَ أَوَّلُ سَلَبٍ خُمِّسَ فِی الإِسْلاَمِ سَلَبُ الْبَرَائِ بْنِ مَالِکَ ، وَکَانَ حَمَلَ عَلَی مَرْزُبَانِ الزَّارَۃِ فَطَعَنَہُ بِالرُّمْحِ حَتَّی دَقَّ قَرْبُوسَ السَّرْجِ ، ثُمَّ نَزَلَ إلَیْہِ فَقَطَعَ مِنْطَقَتَہُ وَسِوَارَیْہِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ صَلَّی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ صَلاَۃَ الْغَدَاۃِ ، ثُمَّ أَتَانَا ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ أَثَمَّ أَبُو طَلْحَۃَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَخَرَجَ إلَیْہِ ، فَقَالَ عُمَرُ : إنَّا کُنَّا لاَ نُخَمِّسُ السَّلَبَ ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ مَالٌ وَإِنِّی خَامِسُہُ ، فَدَعَا الْمُقَوِّمِینَ فَقُومُوا ثَلاَثِینَ أَلْفًا فَأَخَذَ مِنْہَا سِتَّۃَ آلاَفٍ۔
(٣٣٧٦١) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ مقتول سے چھینے ہوئے مال میں سے خمس وصول نہیں کیا جاتا تھا۔ اسلام میں سب سے پہلا خمس جو مقتول کے مال سے لیا گیا وہ حضرت براء بن مالک (رض) کے مقتول کے سامان سے لیا گیا ۔ اس طرح کہ آپ (رض) نے مرزبان زارہ پر حملہ کیا اور آپ (رض) نے اس کو نیزہ مارا جو اس کی زین کے ایک سرے میں گھس گیا۔ پھر آپ (رض) اس کے پاس آئے اور اس کی کمر بند اور اس کے کنگنوں کو کاٹ کر اتار لیا ۔ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ واپس آئے تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ (رض) ہمارے پاس تشریف لائے اور سلام کرنے کے بعد پوچھا : کہ کیا ابو طلحہ یہاں ہیں ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ! میں ہوں۔ اور وہ حضرت عمر (رض) کے پاس نکل آئے ۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہم مقتول سے چھینے ہوئے مال میں سے خمس نہیں لیتے۔ اور یقیناً براء کے مقتول کا سامان بہت بڑا مال ہے۔ یقیناً میں اس کا خمس لوں گا۔ پس آپ (رض) نے قیمت لگانے والوں کو بلایا تو انھوں نے اس کی تیس ہزار قیمت لگائی۔ آپ (رض) نے اس میں سے چھ ہزار وصول کرلیے۔