(۳۵۴۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ، عَنْ أبان بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَحْمَسِیِّ، عَنْ مُرَّۃَ الْہَمْدَانِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اسْتَحْیُوا مِنَ اللہِ حَقَّ الْحَیَائِ ، قَالَ : قُلْنَا : إنَّا لَنَسْتَحْیِی یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَیْسَ ذَاکَ ، وَلَکِنَّ مَنِ اسْتَحْیَا مِنَ اللہِ حَقَّ الْحَیَائِ فَلْیَحْفَظِ الرَّأْسَ ، وَمَا حَوَی ، وَلْیَحْفَظِ الْبَطْنَ ، وَمَا وَعَی ، وَلْیَذْکُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلَی ، وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَۃَ تَرَکَ زِینَۃَ الدُّنْیَا ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَقَدِ اسْتَحْیَا مِنَ اللہِ حَقَّ الْحَیَائِ۔ (ترمذی ۲۴۵۸۔ احمد ۳۸۷)
(٣٥٤٦١) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسی حیا کرو جیسا کہ حیا کا حق ہے۔ ابن مسعود (رض) کہتے ہیں ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم تو حیا کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” یہ حیا نہیں بلکہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیا کرے جیسا کہ حیا کا حق ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سر اور اس میں موجود اعضاء کی حفاظت کرے، اور اس کو چاہیے کہ پیٹ اور اس میں موجود اعضاء کی حفاظت کرے، اور اس کو چاہیے کہ وہ موت اور بوسیدہ ہونے کو یاد کرے اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے تو وہ دنیا کی زینت چھوڑ دیتا ہے۔ پس جو شخص یہ کام کرلے تو پس تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ سے حیا کرنے میں حق ادا کردیا۔