(۳۵۵۱۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ سَاہِمُ الْوَجْہِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَاکَ مِنْ تَغَیُّرٍ ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللہِ ، أَرَاک سَاہِمَ الْوَجْہِ ، أَمِنْ عِلَّۃٍ ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَکِنِ السَّبْعَۃُ الدَّنَانِیرُ الَّتِی أُتِینَا بِہَا أَمْسِ نَسِیتُہَا فِی خُصْمِ الْفِرَاشِ فَبِتُّ وَلَمْ أَقْسِمْہَا۔ (احمد ۲۹۳۔ ابن حبان ۵۱۶۰)
(٣٥٥١٣) حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک متغیر تھا۔ میں نے خیال کیا کہ یہ (شاید) کسی تبدیلی کی وجہ سے ہے تو میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ 5! میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا متغیر چہرہ دیکھ رہی ہوں۔ کیا یہ کسی بیماری کی وجہ سے ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہیں۔ لیکن اس کی وجہ وہ سات دنانیر ہیں جو کل ہمارے پاس لائے گئے تھے۔ میں ان کو بستر کے کنارے میں (رکھ کر) بھول گیا تھا۔ پس میں نے ان کو تقسیم کیے بغیر رات گزار دی ہے۔