(۳۵۶۳۵) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عُمَرَ حِینَ طُعِنَ ، فَقُلْتُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، أَسْلَمْت حِینَ کَفَرَ النَّاسُ وَجَاہَدْت مَعَ رَسُولِ اللہِ حِینَ خَذَلَہُ النَّاسُ ، وَقُبِضَ رَسُولُ اللہِ وَہُوَ عَنْک رَاضٍ ، وَلَمْ یَخْتَلِفْ فِی خِلاَفَتِکَ اثْنَانِ ، وَقُتِلْت شَہِیدًا ، فَقَالَ : أَعِدْ عَلَی ، فَأَعَدْت عَلَیْہِ ، فَقَالَ : وَالَّذِی لاَ إلَہَ غَیْرُہُ لَوْ أَنَّ لِی مَا عَلَی الأَرْضِ مِنْ صَفْرَائَ وَبَیْضَائَ لاَفْتَدَیْت بِہِ مِنْ ہَوْلِ الْمَطْلَعِ۔
(٣٥٦٣٥) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) پر حملہ ہوا میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا : اے امیر المومنین ! آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ جب دیگر لوگوں نے کفر کیا تب آپ (رض) نے اسلام قبول کیا۔ جب دیگر لوگ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسوا کررہے تھے تب آپ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کیا۔ اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت اس حال میں آئی کہ آپ تم سے راضی تھے۔ اور آپ کی خلافت میں کوئی دو آدمی اختلاف کرنے والے نہیں ہیں اور آپ شہید ہو کر مر رہے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے یہ بات دوبارہ کہو۔ چنانچہ میں نے یہ بات آپ کو دوبارہ کہی تو آپ (رض) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر میرے پاس زمین پر موجود چیزوں کے برابر سونا چاندی ہوتا تو میں اس کے ذریعہ قیامت کی ہول ناکی سے جان چھڑا لیتا۔