(۳۵۶۵۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَکَمِ النَّخَعِیِّ ، قَالَ : حدَّثَتْنِی أُمِّی ، عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ أُمِّ وَلَدٍ لِعَلِیٍّ ، قَالَت : جِئْت عَلِیًّا وَبَیْنَ یَدَیْہِ قُرُنْفُلٌ مَکْبُوبٌ فِی الرَّحْبَۃِ ، فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، ہَبْ لاِبْنَتِی مِنْ ہَذَا الْقُرُنْفُلِ قِلاَدَۃً ، فَقَالَ : ہَکَذَا ، وَنَقرَ بِیَدَیْہِ ، أَدنی دِرْہَمًا جَیِّدًا ، فَإِنَّمَا ہَذَا مَالُ الْمُسْلِمِینَ وَإِلاَّ فَاصْبِرِی حَتَّی یَأْتِیَنَا حَظُّنَا مِنْہُ ، فَنَہَبُ لاِبْنَتِکَ مِنْہُ قِلاَدَۃً۔
(٣٥٦٥٣) حضرت علی (رض) کی ام ولد، ام عثمان سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت علی (رض) کے پاس آئی اور ان کے سامنے صحن میں لونگ کا ڈھیر تھا۔ میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! اس لونگ میں سے ایک ہار میری بیٹی کو ہدیہ کردیں۔ حضرت علی (رض) نے یوں فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے ٹھونکا۔ ایک عمدہ درہم قریب کرو کیونکہ یہ مسلمانوں کا مال ہے۔ بصورت دیگر صبر کر یہاں تک کہ اس میں سے ہمیں ہمارا حصہ مل جائے پھر ہم اس میں سے تمہاری بیٹی کو ہدیہ کردیں گے۔