(۳۵۷۰۹) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنْ أَبِی الْحَکَمِ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ یَتَمَنَّی أَنَّہُ کَانَ یَأْکُلُ فِی الدُّنْیَا قُوتًا ، وَمَا یَضُرُّ أَحَدُکُمْ عَلَی أَیِّ حَالٍ أَمْسَی وَأَصْبَحَ مِنَ الدُّنْیَا أَنْ لاَ تَکُونَ فِی النَّفْسِ حَزَازَۃٌ ، وَلأنْ یَعَضَّ أَحَدُکُمْ عَلَی جَمْرَۃٍ حَتَّی تُطْفَأَ خَیْرٌ مِنْ أَنْ یَقُولَ لأَمْرٍ قَضَاہُ اللَّہُ : لَیْتَ ہَذَا لَمْ یَکُنْ۔ (ابو نعیم ۱۳۷۔ احمد ۱۱۷)
(٣٥٧٠٩) حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں لوگوں میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس بات کی خواہش کرے گا کہ وہ دنیا میں جو کچھ کھاتا تھا وہ قوت ۔۔۔ زندگی بچانے کی مقدار کھانا ۔۔۔ ہوتا اور تم میں سے کسی کو دنیا کی صبح وشام ۔۔۔ جس حالت کی بھی ہو ۔۔۔ نقصان نہیں دے گی اگر اس کے دل میں درد نہ ہو۔ اور تم میں سے کوئی انگارے کو پکڑے یہاں تک کہ وہ بجھ جائے یہ کام اس بات سے بہتر ہے کہ آدمی خدا کے کسی فیصلہ شدہ کام کے بارے میں یہ کہے : کاش کہ یہ نہ ہوتا۔