(۳۷۶۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ زَیْنَبَ ابْنَۃِ أُمِّ سَلَمَۃَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّکُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَیَّ ، وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَقْضِی بَیْنَکُمْ عَلَی نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْکُمْ ، فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ مِنْ حَقِّ أَخِیہِ شَیْئًا فَلاَ یَأْخُذْہُ ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہُ قِطْعَۃً مِنْ نَارٍ ، یَأْتِی بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
(٣٧٦٤٢) حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگ میری طرف جھگڑے لے کر آتے ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض ، بعض سے بہتر اپنی حجت بیان کرسکتا ہو۔ اور میں تو تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں ۔ پس جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حصہ میں سے (کسی شئی کا) فیصلہ کروں تو وہ اس کو نہ لے۔ کیونکہ (اس صورت میں) میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں جس کے ساتھ وہ بروز قیامت حاضر ہوگا۔