hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37851

.

ابن أبي شيبة

37851
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۸۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبِی ، وَإِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ یَوْمَ بَدْرٍ ، وَقَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُہُ وَہُوَ صَرِیعٌ ، وَہُوَ یَذُبُّ النَّاسَ عَنْہُ بِسَیْفِہِ ، فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَخْزَاکَ یَا عَدُوَّ اللہِ ، قَالَ : ہَلْ ہُوَ إِلاَّ رَجُلٌ قَتَلَہُ قَوْمُہُ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُہُ بِسَیْفٍ لِی غَیْرِ طَائِلٍ ، فَأَصَبْتُ یَدَہُ ، فَنَدَرَ سَیْفَہُ ، فَأَخَذْتُہُ فَضَرَبْتُہُ بِہِ حَتَّی بَرَدَ ، ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّی أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَأَنَّمَا أَقَلُّ مِنَ الأَرْضِ ، یَعْنِی مِنَ السُّرْعَۃِ ، فَأَخْبَرْتُہُ ، فَقَالَ : آللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ ؟ فَرَدَّدَہَا عَلَیَّ ثَلاَثًا ، فَخَرَجَ یَمْشِی مَعِی حَتَّی قَامَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَخْزَاکَ یَا عَدُوَّ اللہِ ، ہَذَا کَانَ فِرْعَوْنَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ۔ قَالَ وَکِیعٌ : زَادَ فِیہِ أَبِی ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : فَنَفَّلَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَیْفَہُ۔
(٣٧٨٥٢) حضرت عبداللہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : میں بدر والے دن ابو جہل کے پاس پہنچا جبکہ اس کے پاؤں پر ضرب لگی ہوئی تھی اور وہ نیم مردہ حالت میں تھا اور وہ خود سے لوگوں کو اپنی تلوار کے ذریعہ سے ہٹا رہا تھا۔ میں نے کہا۔ اے دشمن خدا ! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا ہے۔ کہا : کہ وہ ایسا شخص ہے جس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں۔ پس میں نے اس کو اپنی چھوٹی سی تلوار سے لینا شروع کیا اور میں اس کے ہاتھ تک پہنچ گیا تو اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے وہ تلوار پکڑ لی اور ابو جہل کو اسی تلوار کے ذریعہ سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں (وہاں سے) نکلا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں (اس طرح) حاضر ہو اگویا کہ مجھے زمین سے اٹھایا گیا ہے (یعنی تیزی سے گیا) اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبردی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا واقعی ہی ؟ الذی لا الہ الا ھو ؟ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ پر تین مرتبہ دہرائی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ہمراہ چلتے ہوئے باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر کھڑے ہوئے اور فرمایا؛ اے دشمن خدا ! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا۔ یہ شخص اس امت کا فرعون تھا۔ حضرت وکیع کہتے ہیں۔ میرے والد نے بواسطہ ابو اسحاق از ابو عبیدہ یہ اضافہ کیا ہے کہ عبداللہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس کی تلوار عطا فرمائی۔