(۳۷۸۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الطُّفَیْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ ، قَالَ : مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِِلاَّ أَنِّی خَرَجْتُ أَنَا ، وَأَبِی حُسَیْلٌ ، قَالَ : فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ ، فَقَالُوا : إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا ؟ فَقُلْنَا : مَا نُرِیدُہُ ، مَا نُرِیدُ إِلاَّ الْمَدِینَۃَ ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَہْدَ اللہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، وَلاَ نُقَاتِلُ مَعَہُ ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : انْصَرِفَا نَفِی لَہُمْ، وَنَسْتَعِینُ اللَّہَ عَلَیْہِمْ۔
(٣٧٨٦٩) حضرت حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ میری بدر میں حاضری سے یہ بات مانع ہوئی کہ میں اور ابو حسیل نکلے۔ فرماتے ہیں : تو ہمیں کفارِ قریش نے پکڑ لیا۔ اور انھوں نے کہا : تم لوگ محمد کا ارادہ رکھتے ہو ؟ ہم نے کہا : ہمارا ارادہ محمد کی طرف (جانے کا) نہیں ہے۔ ہمارا ارادہ تو صرف مدینہ (میں جانے کا) ہے۔ اس پر کفار نے ہم سے خدا کا عہد و پیمان لیا کہ ہم ضرور بالضرور مدینہ کی طرف جائیں گے اور ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ قتال نہیں کریں گے۔ پھر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات بتلائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں چلے جاؤ۔ ہم ان کے لیے بہت ہیں۔ ہم ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد کے طالب ہں ۔