hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38059

.

ابن أبي شيبة

38059
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۰۶۰) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ ، وَفِی الْبَیْتِ وَحَوْلَ الْبَیْتِ ثَلاَثُ مِئَۃٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا ، تُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللہِ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکُبَّتْ کُلُّہَا لِوُجُوہِہَا ، ثُمَّ قَالَ : {جَائَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ، إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا} ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْبَیْتَ ، فَصَلَّی فِیہِ رَکْعَتَیْنِ ، فَرَأَی فِیہِ تِمْثَالَ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ ، وَقَدْ جَعَلُوا فِی یَدِ إِبْرَاہِیمَ الأَزْلاَمَ یَسْتَقْسِمُ بِہَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَاتَلَہُمَ اللَّہُ ، مَا کَانَ إِبْرَاہِیمُ یَسْتَقْسِمُ بِالأَزْلاَمِ ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِزَعْفَرَانٍ ، فَلَطَّخَہُ بِتِلْکَ التَّمَاثِیلِ۔
(٣٨٠٦٠) حضرت جابر سے روایت ہے کہ ہم جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ میں (بھی) داخل ہوئے اور بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت ایسے موجود تھے جن کی خدا کے سوا عبادت کی جاتی تھی ۔۔۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان بتوں کے بارے میں حکم فرمایا تو تمام بتوں کو اوندھے منہ گرا دیا گیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقیناً باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں دو رکعات نماز ادا فرمائی۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں حضرت ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کی ( طرف منسوب) تصویریں دیکھیں اس حال میں کہ ان کے ہاتھوں میں مشرکین نے تیروں (کی تصویر) بنائی ہوئی تھی جن کے ذریعہ سے قسمت آزمائی کی جاتی تھی۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (یہ منظر دیکھ کر) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ان (مشرکین) کو ہلاک کرے ، ابراہیم تو تیروں سے قسمت آزمائی نہیں کرتے تھے۔ پھر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زعفران منگوایا اور اس کے ذریعہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تصاویر کو مسخ فرما دیا۔