(۳۸۰۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ ، وَحَوْلَ الْکَعْبَۃِ ثَلاَثُ مِئَۃٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا ، فَجَعَلَ یَطْعَنُہَا بِعُودٍ کَانَ فِی یَدِہِ ، وَیَقُولُ : {جَائَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ، إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا} {جَائَ الْحَقُّ ، وَمَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیدُ}۔ (بخاری ۲۴۷۸۔ مسلم ۱۴۰۸)
(٣٨٠٦١) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت موجود تھے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس لکڑی سے مارنا شروع فرمایا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں تھی اور فرمایا۔ ” حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقیناً باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے “۔ ” حق آچکا ہے اور باطل میں نہ کچھ شروع کرنے کا دم ہے اور نہ دوبارہ کرنے کا۔