(۳۸۲۰۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ : لَمَّا ارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ عَلَی عَہْدِ أَبِی بَکْرٍ ، أَرَادَ أَبُو بَکْرٍ أَنْ یُجَاہِدَہُمْ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : أَتُقَاتِلُہُمْ وَقَدْ سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ شَہِدَ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ حَرُمَ مَالُہُ وَدَمُہُ إِلاَّ بِحَقِّہِ ، وَحِسَابُہُ عَلَی اللہِ ؟ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : أَنَّی لاَ أُقَاتِلُ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلاَۃِ وَالزَّکَاۃِ ؟ وَاللہِ، لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا حَتَّی أَجْمَعَہُمَا ، قَالَ عُمَرُ : فَقَاتَلْنَا مَعَہُ ، فَکَانَ وَاللہِ رَشَدًا ، فَلَمَّا ظَفِرَ بِمَنْ ظَفِرَ بِہِ مِنْہُمْ ، قَالَ : اخْتَارُوا بَیْنَ خِطَّتَیْنِ : إِمَّا حَرْبٌ مُجَلِّیَۃٌ ، وَإِمَّا الْخُطَّۃُ الْمُخْزِیَۃُ ، قَالَوا : ہَذِہِ الْحَرْبُ الْمُجَلِّیَۃُ قَدْ عَرَفْنَاہَا ، فَمَا الْخُطَّۃُ الْمُخْزِیَۃُ ؟ قَالَ : تَشْہَدُونَ عَلَی قَتْلاَنَا أَنَّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ ، وَعَلَی قَتْلاَکُمْ أَنَّہُمْ فِی النَّارِ ۔ فَفَعَلُوا۔
(٣٨٢٠٩) حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مرتد ہونے والے لوگ مرتد ہوئے تو حضرت ابوبکر نے ان سے قتال کرنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا ۔ کیا آپ ان سے قتال کریں گے حالانکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتے ہوئے سُنا ہے کہ : ” جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو اس کا مال اور اس کا خون حرمت حاصل کرلیتا ہے مگر حق کے بدلے میں (حرمت ختم ہوسکتی ہے) اور اس کا (باطنی) حساب اللہ کے ذمہ ہے “ ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ میں کیسے اس آدمی سے قتال نہ کروں جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرتا ہے ؟ خدا کی قسم ! میں تو ضرور بالضرور اس آدمی سے قتال کروں گا جو ان دونوں میں فرق کرے گا یہاں تک کہ وہ ان دونوں کو جمع کرلے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پھر ہم نے حضرت ابوبکر کے ہمراہ قتال کیا۔ پس خدا کی قسم ! حضرت ابوبکر راہ حق پر سختی سے قائم رہنے والے تھے۔ پھر جب حضرت ابوبکر نے مرتدین میں سے کچھ لوگوں کو قابو کرلیا تو آپ نے فرمایا : تم دو لائحہ عمل میں سے کسی کو اختیار کرلو۔ یا تو ننگی جنگ ہے۔ اور یا رسوا کن لائحہ عمل ہے۔ انھوں نے کہا۔ یہ ننگی جنگ تم ہم جانتے ہیں لیکن رسواکن لائحہ عمل کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم ہمارے مقتولین کے بارے میں یہ گواہی دو کہ وہ جنت میں ہیں اور اپنے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ جہنم میں ہیں۔ چنانچہ انھوں نے یہی کام کیا۔